Updated: March 23, 2026, 7:06 PM IST
| Mumbai
سکھ برادری کے افراد نے ایک مبینہ پوسٹر پر اعتراض کیا ہے جس میں رنویر سنگھ کو سکھ کے روپ میں سگریٹ پیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے، لیکن فلم اور اس کے بنانے والوں کے خلاف ممبئی پولیس میں شکایت درج کر دی گئی ہے۔
رنویر سنگھ۔ تصویر:آئی این این
رنویر سنگھ کی فلم ’’دُھرندھر ۲‘‘ ۱۹؍مارچ ۲۰۲۶ءکو ریلیز ہونے کے بعد سے شاندار کارکردگی پیش کر رہی ہے اور باکس آفس پر تاریخ رقم کر رہی ہے۔ تاہم، یہ فلم اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب سکھ برادری کے افراد نے فلم سے منسلک ایک وائرل پوسٹر پر سخت اعتراضات کئے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ممبئی کے ملنڈ پولیس اسٹیشن میں ایک تحریری شکایت درج کروائی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ فلم نے سکھ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
’’دُھرندھر ۲‘‘ سے متعلق تنازع کیا ہے؟
یہ شکایت ’’سکھس اِن مہاراشٹر‘‘ نامی تنظیم کے صدر سردار گر جیوَت سنگھ نے کی ہے، جنہوں نے ایک ایسے پوسٹر پر تشویش ظاہر کی جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ شکایت کے مطابق، اس پوسٹر میں ایک کردار کو روایتی سکھ لباس، بشمول پگڑی، میں دکھایا گیا ہے جبکہ وہ سگریٹ پی رہا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پیشکش سکھ مذہبی اصولوں کے خلاف ہے اور برادری کے ساتھ ساتھ گرو گوبند سنگھ کی بے حرمتی ہے۔
گروپ نے ممبئی پولیس کے سامنے کئی مطالبات رکھے ہیں اور حکام سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متنازع پوسٹر کو تمام پلیٹ فارمز سے ہٹایا جائے اور اس کی تشہیر روکی جائے۔اس کے علاوہ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک اصلاحی اقدامات نہیں کیے جاتے، فلم کی نمائش معطل کی جائے اور ذمہ دار افراد، بشمول ہدایت کار، پروڈیوسرز اور مرکزی اداکار کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ پوسٹر میں اداکار کو پگڑی، لمبی داڑھی اور کڑا پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے جو سکھ مت کی مقدس علامات ہیں جبکہ اس کے ہاتھ میں سگریٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سکھ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
حقیقت کیا ہے؟
چند روز قبل یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ اسی نوعیت کے خدشات کے پیش نظر فلم سازوں اور متعلقہ حکام کو قانونی نوٹس بھیجا گیا ہے۔یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب پرمجیت سنگھ سرنا نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے اس پوسٹر پر تنقید کی۔ انہوں نے لکھا: ’’دُھرندھر ۲‘‘ کے گانے پرلے کے پوسٹر میں ایک پگڑی پہنے سکھ کردار کو سگریٹ کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ یہ پیشکش انتہائی توہین آمیز ہے اور سکھ مذہبی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:علیشا چنائے نے بالی ووڈ میں انڈی پاپ کو فروغ دیا
انہوں نے مزید کہاکہ سکھ روایت میں تمباکو سختی سے ممنوع ہے اور اسے بجّر کُرہِت سمجھا جاتا ہے، جو سکھ ضابطہ اخلاق کی سب سے بڑی خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے ایک سکھ کو دستار پہنے سگریٹ کے ساتھ دکھانا سکھ شناخت کی غلط عکاسی ہے اور دنیا بھر کے سکھوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران نےجنگ کے خاتمے کیلئے۶؍ شرائط رکھیں
انہوں نے مزید لکھاکہ ’’سکھ پگڑی ایک مقدس علامت ہے۔ اس سیاق و سباق میں اس کا استعمال فلم کی کہانی سے بالکل غیر متعلق ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سکھ عقائد کو عالمی سطح پر کم تر دکھانے کی کوشش ہے۔ ایسی تصاویر سکھ جذبات پر براہ راست حملہ کرتی ہیں اور سکھ مذہب کی مسخ شدہ تصویر پیش کرتی ہیں۔ ہم متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، تحقیقات کریں اور فلم سازوں کو ہدایت دیں کہ اس توہین آمیز پوسٹر کو ہٹایا یا درست کیا جائے۔‘‘